اسلام آباد ،28مارچ 2017:ایوان بالا کے 260ویں اجلاس کی چودھویں نشست میں ایوان نے فوجی عدالتوں کی بحالی کیلئے پیش اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے بل کی منظوری دی ۔
ترمیمی بل کے ھق میں 78 ووٹ پڑے ، پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے تین سینیٹرز نے مخالفت کی ۔
خاص نکات
- نشست کا دورانیہ 02 گھنٹے 12 منٹ رہا ۔
- نشست کا آغاز طے شدہ وقت 03بجے دوپہر کی بجائے 35منٹ تاخیر سے ہوا۔
- چیئرمین نے مکمل نشست کی صدارت کی ۔
- ڈپٹی چیئرمین اور وزیراعظم نے شرکت نہ کی ۔
- وزیراعظم 28 منٹ کیلئے شریک ہوئے ۔
- قائد ایوان اورقائد حزب اختلاف نے بھی مکمل نشست میں شرکت کی ۔
- نشست کا آغاز 70(67فیصد ) جبکہ اختتام 16(15فیصد( سینیٹرز کی موجودگی میں ہوا ۔
- پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز ، پختون خوا ملی عوامی پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی قائدین شریک ہوئے ۔
- تین اقلیتی سینیٹر نے بھی شرکت کی ۔
کارکردگی
- ایوان نے وزیر قانون کی طرف سے پیش فوجی عدالتوں کی بحالی کیلئے اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے بل 2017 کی منظوری دی ۔
- پارلیمانی امور کے وزیر نے غیر قانونی بیدخلی ( ترمیمی) بل 2017 پیش کیا جسے ایوان نے متعلقہ مجلس کے سپرد کردیا ۔
- ایوان میں مجالس ہائے قائمہ کی پانچ رپورٹیں پیش کی گئیں ۔
نمائندگی و جوابدہی
- ایوان نے دو مجالس کو رپورٹ پیش کرنیکی مدت میں توسیع دی ۔
- ایوان نے گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کی کارکردگی سے متعلق کابینہ سیکرٹریٹ پر قائم مجلس قائمہ کی رپورٹ منظور کرنیکی تحریک موخر کردی ۔
- ایوان نے قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی قائم کرنیکی تحریک منظور کی ۔
نظم و ضبط
- سینیٹرز نے عوامی اہمیت کے 15 نکات پر 32 منٹ بحث کی ۔
شفافیت
- ایجنڈے کی نقول تمام اراکین ، مشاہدہ کاروں اور عوام کیلئے دستیاب تھیں ۔
- اراکین کی حاضری کی تفصیل ایوان کی ویب سائٹ پر دستیاب پائی گئی۔
(یہ فیکٹ شیٹ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کی جانب سے ایوان بالا کی کاروائی کے براہ راست مشاہدے پر مبنی ہے۔ ادارہ ممکنہ غلطی یا کوتاہی پر پیشگی معذرت خواہ ہے۔)