اسلام آباد ،21دسمبر 2016 :ایوان بالا نے 257ویں اجلاس کی تیسری نشست میں ریگولیٹری اداروں کو وزارتوں کے تحت کرنے کے حکومتی فیصلے پر بحث کی ۔
چیئرمین نے گزشتہ نشست میں اس معاملے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو اس حوالے سے ایوان کو بریفنگ دینے کی ہدائت کی تھی ۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے معاملے پر حکومتی موقف بیان کرنے کیلئے 13 منٹ صرف کئے جبکہ 14 سینیٹر نے 54 منٹ تک اس مسلے پر بحث کی ۔
خاص نکات
- نشست کا دورانیہ 04 گھنٹے 17منٹ رہا ۔
- نشست کا آغاز طے شدہ وقت اڑھائی بجے دوپہر ہوا۔
- چیئرمین نے 02 گھنٹے 53 منٹ تک نشست کی صدارت کی، باقی وقت کیلئے فرائض ڈپٹی چیئرمین نے ادا کئے ۔
- 16 منٹ کیلئے وقفہ نماز کیا گیا ۔
- قائد ایوان 23 منٹ کیلئےنشست میں شریک ہوئے جبکہ قائد حزب اختلاف 02 گھنٹے 44 منٹ ایوان میں موجود رہے۔
- نشست کا آغاز 14(13فیصد ) جبکہ اختتام 18(17فیصد( سینیٹرز کی موجودگی میں ہوا ۔
- عوامی نیشنل پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی قائدین نے شرکت کی
کارکردگی
- ایوان نے کمپنیز ( قانونی مشیران کا تقرر) (ترمیمی) بل 2016 کی منظوری دی جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بل تعارف کرایا گیا جسے مزید غور کیلئےمتعلقہ مجلس قائمہ کے سپرد کیا گیا ۔
- سول کورٹس (ترمیمی) بل 2016، پمز ہسپتال اسلام آباد کے ماہر امراض قلب ڈاکٹر شاہد نواز کے قتل اور قومی مالیاتی ایوارڈ پر عملدرآمد کی دوسری ششماہی رپورٹیں ایوان میں پیش کی گئیں ۔
نمائندگی اور جوابدہی
- چیئر نے سول ہسپتال کوئٹہ میں دہشت گردی پر قائم کمیشن کی رپورٹ پر بحث کیلئے منظور تحریک التوا پر بحث اگلے روز تک ملتوی کردی ۔
- مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے عدم تحفظ اور ماحولیاتی تجزیہ کی لیباٹری سے متعلقہ دو ایل ایلگ توجہ دلاؤ نوٹس اٹھائے گئے ۔
- بین الصوبائی رابطہ کے وزیر نے اختہارات کی منتقلی پر قائم فنکشنل کمیٹی کی سفارشات پر رپورٹ پیش کی ۔
- دو تحاریک التوا محرکین کی عدم موجودگی کے باعث نپٹا دی گئیں جبکہ ایک تحریک التوا ایوان بالا کے قواعد و ضوابط ہائے کار 2012 کے ضابطہ 87 کے مطابق قرار نہ دی گئی ۔
- نظام کار پر موجود 29 میں سے 14 نشانذدہ سوالات اٹھائے گئے ۔
نظم و ضبط
- ایوان نے عوامی اہمیت کے چھ نکات پر 12 منٹ بحث کی ۔
شفافیت
- ایجنڈے کی نقول تمام اراکین ، مشاہدہ کاروں اور عوام کیلئے دستیاب تھیں ۔
- اراکین کی حاضری کی تفصیل ایوان کی ویب سائٹ پر دستیاب پائی گئی۔
(یہ فیکٹ شیٹ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کی جانب سے ایوان بالا کی کاروائی کے براہ راست مشاہدے پر مبنی ہے۔ ادارہ ممکنہ غلطی یا کوتاہی پر پیشگی معذرت خواہ ہے۔)