اسلام آباد ،05 ستمبر 2016 : ایوان بالا نے 252ویں اجلاس کی پہلی نشست میں معمول کے نظام ہائے کار کو معطل کرتے ہوئے کوئٹہ اور مردان میں ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات پر بحث کی ۔
ایوان نے دونوں شہروں میں دہشت گردی کی مذمت اور بھاری جانی نقصان پر دکھ کے اظہار کیلئے قرارداد بھی منظور کی اور دہشت گردی کے شکار افراد کی مغفرت و لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی کی گئی ۔
خاص نکات
- نشست کا دورانیہ 03گھنٹے 53منٹ رہا ۔
- نشست کا آغاز طے شدہ وقت تین بجے کی بجائے گیارہ منٹ تاخیر کیساتھ ہوا ۔
- ڈپٹی چیئرمین نے 24 منٹ تک نشست کی صدرات کی، بقیہ وقت کیلئے کارروائی کی صدارت پریذائیڈنگ افسران کے پینل کے ایک رکن نے نبھائی
- قائد ایوان 02 گھنٹے 49 منٹ کیلئے جبکہ قائد حزب اختلاف 03 گھنٹے 07 منٹ کیلئے شریک ہوئے ۔
- وزیراعظم شریک نہ ہوئے ۔
- نشست کا آغاز 32(31فیصد ) جبکہ اختتام 09(08فیصد( سینیٹرز کی موجودگی کیساتھ ہوا ۔
- متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان مسلم لیگ ، پاکستان پیپلز پارٹی ، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) ، پاکستان مسلم لیگ (ن) ، جمعیت العلما اسلام (ف) ، نیشنل پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل ، جماعت اسلامی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی قائدین نے شرکت کی
- تین اقلیتی سینیٹر بھی شریک ہوئے۔
کارکردگی
- ایوان نے کوئٹہ اور مردان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی مذمت کیلئے ایک قرارداد منظور کی ، قرارداد پر 15 سینیٹرز نے دو گھنٹے 44 منٹ تک بحث بھی کی ۔ علاوہ ازیں ایوان نے نظام ہائے کار پر موجود چار دیگر قراردادوں پر غور نہ کیا
- معمول کا ایجنڈا معطل ہونے کے باعث نظام کار پر موجود نو قانونی مسودات بھی زیر غور نہ لائے گئے ۔
- ایک مالی بل ، انکم ٹیکس ( ترمیمی) بل 2016 کی نقل اور مجالس ہائے قائمہ کی آٹھ رپورٹس بھی ایوان میں پیش نہ کی جا سکیں ۔
نمائندگی اور جوابدہی
- پارلیمان کی منظوری کیساتھ غیر ملکی قرضوں کے استعمال کے طریقہ کار ، بھارت کیساتھ کھوکھرا پار سرحد بند ہونے کے باعث پیدا مشکلات ، ملک میں علم کی بنیاد پر معیشت کے فروغ ، پی اے ایس اور پی ایس پی آفیسرز کیلئے حکومت کی روٹیشن پالیسی اور سعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کی حالت زار جیسے اہم موضوعات پر پیش پانچ تحاریک زیر ضابطہ 218 پر بھی بحث نہ ہو سکی ۔ اسی طرح ایوان نے ضابطہ 194(1) اور ضابطہ 196 (1) کے تحت پیش دو الگ الگ تحاریک پر بھی غور نہ کیا ۔
نظم و ضبط
- حزب اختلاف اور سرکاری بینچوں بشمول پختون خوا ملی عوامی پارٹی ،نیشنل پارٹی ، فاٹا اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز نے وزرا کی عدم موجودگی کیخلاف چھ بج کر 18 منٹ پر ایوان سے واک آؤٹ کیا اور نشست ملتوی ہونے تک واپس نہ آئے ۔
- پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیٹر نے چھ بج کر 20 منٹ پر کورم کی نشاندہی کی ۔ چیئر نے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا ۔ چھ بج کر 26 منٹ پر گنتی ہونے پر کورم نا مکمل پایا گیا ، چیئر نے نشست کورم مکمل ہونے تک ملتوی کر دی ۔ سات بج کر چار منٹ پر نشست دوبارہ شروع ہوئی تاہم کورم کی کمی کے باعث ملتوی کر دی گئی ۔
شفافیت
- ایجنڈے کی نقول تمام اراکین ، مشاہدہ کاروں اور عوام کیلئے دستیاب تھیں ۔
- اراکین کی حاضری کی تفصیل ایوان کی ویب سائٹ پر دستیاب پائی گئی۔
(یہ فیکٹ شیٹ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کی جانب سے ایوان بالا کی کاروائی کے براہ راست مشاہدے پر مبنی ہے۔ ادارہ ممکنہ غلطی یا کوتاہی پر پیشگی معذرت خواہ ہے۔