اسلام آباد ،13 مارچ 2017 :ایوان بالا کے 260ویں اجلاس کی ساتویں نشست میں حکومتی مخالفت کے باوجود نجی اراکین نے آئینی ترمیمی بل اور قرارداد متعارف کرائی ۔
خاص نکات
- نشست کا دورانیہ 03 گھنٹے04منٹ رہا ۔
- نشست کا آغاز طے شدہ وقت تین بجے سہ پہر کی بجائے دو منٹ تاخیر سے ہوا۔
- چیئرمین نے مکمل نشست کی صدارت کی، ڈپٹی چیئرمین موجود نہ تھے ۔
- وزیراعظم نے شرکت نہ کی ۔
- قائد ایوان نے دو گھنٹے تریپن منٹ کیلئےنشست میں شرکت کی ، قائد حزب اختلاف موجود نہ تھے ۔
- نشست کا آغاز 17(16فیصد ) جبکہ اختتام 15(14فیصد( سینیٹرز کی موجودگی میں ہوا ۔
- پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز ، متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان تحریک انصاف ، جمعیت العلما اسلام (ف اور پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی قائدین شریک ہوئے ۔
- دواقلیتی سینیٹر زنے بھی شرکت کی ۔
کارکردگی
- نجی اراکین نے آئینی ترمیمی بل 2017 برائے ترمیم کئے جانے آرٹیکل 70 ، پاکستان شہریت ترمیمی بل 2017 سمیت چھ قانونی مسودات متعارف کرائے ۔ ایوان نے تمام قانونی مسودات کو متعلقہ مجالس کے سپرد کردیا ، حکومتی سینیٹرز نے آئینی ترمیمی بل 2017 کو متعارف کرانے کی بھرپور مخالفت کی ۔
- ایوان شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد ترمیمی بل 2016 کو مسترد کردیا جبکہ اسلام آباد نیشنل ہسپتال بل 2017 واپس لے لیا گیا اور بین الاقوامی معاہدات بل 2017 کو موخر کردیا گیا ۔
- ایوان نے گزشتہ حکومت کی شروع کی گئی سکیموں وسیلہ حق اور وسیلہ روزگار کو بحال کرنیکی قرادادیں منظور کیں جبکہ سرکاری افسروں کی گاڑیوں کی موناٹائزیشن پالیسی سے متعلق قرارداد مسترد کردی گئی ۔ دیگر دو قراردادیں موخر جبکہ محرک کی عدم موجودگی کے باعث ایک قرارداد نپٹائی ہوئی قراردی گئی ۔
نمائندگی اور جوابدہی
- ایوان نے بلاگرز کی گمشدگی ، اسلامی بینکنگ نظام ، اسلام آباد کی انتظامیہ کی طرف سے وکلا کالونی کیلئے زمین کے زبردستی حصول اور پاکستان ٹیلیفون انڈسٹری کی موجودہ حیثیت سے متعلق پیش چار الگ ،الگ تحاریک زیر ضابطہ 218 پر بحث کی ۔ 12 سینیٹرز نے بحث میں حصہ لیا جبکہ متعلقہ وزرا نے جوابات دیئے ۔
- انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات کی وزیر مملکت نے اپنی وزارت کی کارکردگی کے حوالے سے پالیسی بیان دیا ۔
- وزیر پانی و بجلی نے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (قیسکو ) سے متعلق اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملے پر آٹھ منٹ گفتگو کی
- ایوان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق پیش تحریک التوا پر بھی بحث کی ۔ دو سینیٹرز اور متعلقہ وزیر نے بحث میں حصہ لیا
نظم و ضبط
- عوامی اہمیت کے 05 نکات پر 21منٹ بحث کی گئی ۔
شفافیت
- ایجنڈے کی نقول تمام اراکین ، مشاہدہ کاروں اور عوام کیلئے دستیاب تھیں ۔
- اراکین کی حاضری کی تفصیل ایوان کی ویب سائٹ پر دستیاب پائی گئی۔
(یہ فیکٹ شیٹ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کی جانب سے ایوان بالا کی کاروائی کے براہ راست مشاہدے پر مبنی ہے۔ ادارہ ممکنہ غلطی یا کوتاہی پر پیشگی معذرت خواہ ہے۔)