اسلام آباد ، 28نومبر 2016:سندھ کی صوبائی اسمبلی کے 28 ویں اجلاس کی نویں و آخری نشست میں ایوان نے اراکین کی کم تعداد میں شرکت کے باوجود نظام کار پر موجود تمام امور نپٹائے ، جسکے بعد اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا ۔
ایوان کی کارروائی کے خاص نکات
- نشست کا دورانیہ88 منٹ رہا ۔
- نشست مقررہ وقت دس بجے صبح کی بجائے 10بج کر 58 منٹ پر شروع ہوئی ۔
- سپیکر نے مکمل نشست کی صدارت کی ،ڈپٹی سپیکر موجود نہ تھیں ۔
- قائد ایوان 56 منٹ جبکہ قائد حزب اختلاف 22 منٹ تک ایوان میں موجود رہے ۔
- نشست کےآغاز پر 20( 12فیصد ) جبکہ اختتام پر 68(40فیصد) اراکین کی موجودگی مشاہدہ کی گئی ۔
- پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ ، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی قائدین نے شرکت کی ۔
- تین اقلیتی رکن شریک ہوئے ۔
- تیرہ اراکین نے رخصت کی درخواستیں ارسال کیں ۔
کارکردگی
- ایوان نے شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لا ، کراچی (ترمیمی) بل 2016 پر غور موخر کردیا ۔
نمائندگی و جوابدہی
- نظام ہائے کار پر موجود08 نشانذدہ سوالات میں سے 06سوالات اٹھائے گئے ، متعلقہ وزرا نے جوابات دیئے ۔ اراکین نے 19 ضمنی سوالات بھی دریافت کئے ۔
- سپیکر نے کراچی میونسپل کارپوریشن کو فنڈز کے اجرا سے متعلق تحریک انصاف کے ایک رکن کی پیش کی گئی تحریک التوا کو مسترد کردیا۔ دو اراکین نے تحریک پر 09 منٹ بحث بھی کی ۔
- ایوان نےعوامی اہمیت کے مختلف مسائل پر پیش پانچ توجہ دلاؤ نوٹس اٹھائے ۔
نظم و ضبط
- اراکین نے 04 نکات ہائے اعتراض پر 16منٹ اظہار خیال کیا ۔
شفافیت
- ایجنڈے کی نقول تمام اراکین ، مشاہدہ کاروں اور دیگرکیلئے دستیاب تھیں ۔
- اراکین کی حاضری کی تفصیل مشاہدہ کاروں اور عوام کیلئے دستیاب بنائی گئی ۔
(یہ فیکٹ شیٹ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کی شریک کار تنظیم پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی جانب سے سندھ اسمبلی کی کاروائی کے براہ راست مشاہدے پر مبنی ہے۔ ادارہ ممکنہ غلطی یا کوتاہی پر پیشگی معذرت خواہ ہے۔)