اسلام آباد ، 06 مارچ 2017 : سندھ کی صوبائی اسمبلی کے 30ویں اجلاس کی پہلی نشست میں ایوان نے مقامی حکومتوں کے ترمیمی بل کی منظوری دی جبکہ متعدد نکات ہائے اعتراض پر اراکین نے 85 منٹ صرف کئے ۔
قرارداد منظور ایوان کی کارروائی کے خاص نکات
- نشست کا دورانیہ 02گھنٹے 45 منٹ رہا ۔
- نشست مقررہ وقت 10بجے صبح کی بجائے 11 بج کر 10منٹ پر شروع ہوئی ۔
- نماز کے وقفہ اور حزب اختلاف کے احتجاج کے باعث کے باعث کارروائی 12 منٹ معطل رہی ۔
- سپیکر نے مکمل نشست کی صدارت کی، ڈپٹی سپیکر موجود نہ تھیں ۔
- قائد ایوان 67منٹ جبکہ قائد حزب اختلاف 69منٹ کیلئے شریک ہوئے۔
- نشست کےآغاز پر 51( 31فیصد ) جبکہ اختتام پر 46(28 فیصد) اراکین کی موجودگی مشاہدہ کی گئی ۔
- مسلم لیگ (ف) ، پاکستان پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ اورپاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی قائدین نے شرکت کی ۔
- سات اقلیتی رکن شریک ہوئے ۔
کارکردگی
- ایوان نے سرکاری قانونی مسودے مقامی حکومت (ترمیمی) بل 2017 کی منظوری دی۔
نمائندگی و جوابدہی
- حزب اختلاف کے احتجاج کے باعث وقفہ سوالات منعقد نہ ہو سکا۔
نظم و ضبط
- اراکین نے دس نکات ہائے اعتراض پر 85 منٹ اظہار خیال کیا ۔
- حزب اختلاف نے ایک نکتہ اعتراض پر بولنے کی اجازت نہ ملنے پر 46 منٹ احتجاج کیا ۔ احتجاج کے باعث کارروائی 05 منٹ معطل رہی ۔
شفافیت
- ایجنڈے کی نقول تمام اراکین ، مشاہدہ کاروں اور دیگرکیلئے دستیاب تھیں ۔
- اراکین کی حاضری کی تفصیل مشاہدہ کاروں اور عوام کیلئے دستیاب بنائی گئی ۔
(یہ فیکٹ شیٹ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کی شریک کار تنظیم پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی جانب سے سندھ اسمبلی کی کاروائی کے براہ راست مشاہدے پر مبنی ہے۔ ادارہ ممکنہ غلطی یا کوتاہی پر پیشگی معذرت خواہ ہے۔)