اسلام آباد ، 07 دسمبر 2016 :بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے 36ویں اجلاس کی دوسری نشست میں ایوان نے دو قراردادوں کی منظوری دی جبکہ 38 فیصد وقت نکات ہائے اعتراض پر صرف ہوا ۔
خاص نکات
- نشست کا دورانیہ 02گھنٹے 05 منٹ رہا ۔
- نشست کا آغاز طے شدہ وقت 03بجے سہ پہر کی بجائے03بج کر35منٹ پر ہوا ۔
- سپیکر نے مکمل نشست کی صدارت کی۔
- وزیر اعلیٰ قائد حزب اختلاف شریک نہ ہوئے ۔
- نشست کے آغازپر موجود اراکین کی تعداد 12( 18فیصد ) اور اختتام پر موجود اراکین کی تعداد 10(15فیصد) مشاہدہ کی گئی۔
- پختون خوا ملی عوامی پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ اور مجلس وحدت المسلمین کے پارلیمانی قائد ین نے شرکت کی ۔
- 08 اراکین نے رخصت کی درخواست ارسال کی ۔
کارکردگی
- ایوان نے پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے ایک رکن کی قرارداد کی منظوری جس میں میانمار میں مسلمانوں پر مظالم کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ معالے کو عالمی فورمز پر اٹھایا جائے ۔ قرارداد پر منظوری قبل بحث کی گئی جس مٰن پانچ اراکین نے 38 منٹ تک اظہار خیال کیا ۔
- وزیر تعلیم کی پیش کردہ ایک قرارداد منظور کی گئی ۔ قرارداد مین مطالبہ کیا گیا کہ موبائل فون کی فروخت کو باضابطہ انوائس سے مشروط کیا جائے جس مین خریدار اور فروخت کنندہ کے شناختی کارڈ درج ہوں ۔ اس قرارداد پر تین اراکین نے 14 منٹ بحث کی ۔
نظم و ضبط
- اراکین نے 14 نکات ہائے اعتراض پر 48 منٹ تک اظہار خیال کیا ۔
شفافیت
- ایجنڈے کی نقول تمام اراکین ، مشاہدہ کاروں اور عوام کیلئے دستیاب تھیں ۔
- اراکین کی حاضری کی تفصیل ایوان کی ویب سائٹ پر دستیاب نہیں کی گئی ۔