اسلام آباد ،18 اپریل 2017 : ایوانِ زیریں کے4۱ویں اجلاس کی پانچویں نشست میں ایوان کورم کی کمی کے باعث باقاعدہ ایجنڈے پر غور نہ کر سکا ۔ رواں اجلاس کے دوران مسلسل چوتھی بار صرف کورم کی کمی کے باعث نشست ملتوی کی گئی تاہم ایوان نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں مشال خان نامی طالبعلم کے بہیمانہ قتل کی مذمت کیلئے متفقہ قرارداد منظور کی ۔
ایوان کی کارروائی کے خاص نکات
- نشست کا دورانیہ 104 منٹ رہا ۔
- نشست کا آغاز طے شدہ وقت 10 بجے صبح کی بجائے 10بج کر 34 منٹ پر ہوا ۔
- کورم کی کمی کے باعث نشست 32 منٹ معطل بھی رہی ۔
- سپیکر نے صدارت کے فرائض نبھائے ، ڈپٹی سپیکر بھی موجود تھے ۔
- وزیرِ اعظم اجلاس میں شریک نہ ہوئےتاہم قائد حزب اختلاف 48 منٹ ایوان میں موجود رہے ۔
- نشست کے آغاز پر 40(12 فیصد) اور اختتام پر 63 (18فیصد) اراکین موجود تھے۔
- نشست میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی ، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ضیا اورآل پاکستان مسلم لیگ کے پارلیمانی قائدین نے شرکت کی ۔
- تین اقلیتی اراکین بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔
کارکردگی
- نشست قبل از وقت ملوی ہونے کے باعث نظام کار پر موجود کوئی امر نہ نپٹ سکا ۔
- ایوان نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں مشال خان نامی طالبعلم کے بہیمانہ قتل کی مذمت کیلئے متفقہ قرارداد منظور کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ توہین رسالت سے متعلقہ قوانین کے غلط استعمال کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔ چار اراکین نے قرارداد پر 13 منٹ بحث بھی کی ۔
نظم و ضبط
- اراکین نے 03نکات ہائے اعتراض کے ذریعے 40 منٹ تک مختلف معاملات پر بات کی۔
- پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اپنی جماعت کے کارکنوں کی جبری گمشدگی کیخلاف واک آؤٹ کیا جو نشست کے اختتام تک جاری رہا
- 11 بج کر 39منٹ پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رکن نے کورم کی نشاندہی کی ،کورم پورا نہ پائے جانے پر سپیکر نے نشست ملتوی کردی ۔ ۔
شفافیت
- ایجنڈے کی نقول تمام اراکین ، مشاہدہ کاروں اور عوام کیلئے دستیاب تھیں ۔
- اراکین کی حاضری کی تفصیل ایوان کی ویب سائٹ پر دستیاب پائی گئی۔
(یہ فیکٹ شیٹ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کی جانب سے قومی اسمبلی کی کاروائی کے براہ راست مشاہدے پر مبنی ہے۔ ادارہ ممکنہ غلطی یا کوتاہی پر پیشگی معذرت خواہ ہے۔)