اسلام آباد ،06 مارچ 2017 : ایوانِ زیریں کے 40 ویں اجلاس کی پہلی نشست میں مختلف مجالس ہائے قائمہ کی انیس رپورٹیں پیش کی گئیں جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں اپنے کارکنوں پر دباؤ کیخلاف احتجاج کیا ۔
ایوان کی کارروائی کے خاص نکات
- نشست کا دورانیہ 03گھنٹے 10 منٹ رہا ۔
- نشست کا آغاز طے شدہ وقت 04بجے شام کی بجائے 03 منٹ تاخیر سے ہوا ۔
- سپیکر نے 59 منٹ کیلئے نشست کی صدارت کی ، بقیہ کارروائی ڈپٹی سپیکر نے نبھائی۔
- قائد ایوان (وزیرِ اعظم ) شریک نہ ہوئے جبکہ قائد حزب اختلاف نے 98 منٹ کیلئےشرکت کی ۔
- نشست کے آغاز پر 23(06فیصد) اور اختتام 70(20فیصد) اراکین موجود تھے۔
- نشست میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز ، جماعت اسلامی ، عوامی مسلم لیگ پاکستان ، عوامی نیشنل پارٹی ،آل پاکستان مسلم لیگ ، قومی وطن پارٹی شیر پاؤ اور مسلم لیگ ضیا کے پارلیمانی قائدین شریک ہوئے ۔
- نواقلیتی اراکین نے بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔
کارکردگی
- ایوان مختلف مجالس ہائے قائمہ نے 19 رپورٹیں پیش کیں ۔
نمائندگی و جوابدہی
- نظام کار پر موجود 34 نشانذدہ سوالات میں سے 14 کے جوابات دیئے گئے ، اراکین نے 13 ضمنی سوال بھی اٹھائے ۔
- ایوان نے ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹ کے ادارے کی طرف سے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنوں میں عدم اضافے کے خلاف ایک توجہ دلاؤ نوٹس اٹھایا ۔
نظم و ضبط
- اراکین نے 19 نکات ہائے اعتراض پر 90منٹ اظہار خیال کیا ۔
- متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین نے کراچی میں ایک سیاسی جماعت کی طرف سے ان کے کارکنوں پر ڈالے جانے والے مبینہ دباؤ کیخلاف چھ منٹ احتجاج کیا ۔
شفافیت
- ایجنڈے کی نقول تمام اراکین ، مشاہدہ کاروں اور عوام کیلئے دستیاب تھیں ۔
- اراکین کی حاضری کی تفصیل ایوان کی ویب سائٹ پر دستیاب پائی گئی۔
(یہ فیکٹ شیٹ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کی جانب سے قومی اسمبلی کی کاروائی کے براہ راست مشاہدے پر مبنی ہے۔ ادارہ ممکنہ غلطی یا کوتاہی پر پیشگی معذرت خواہ ہے۔)